ہر انسان کا مزاج الگ اور قدرتی ہوتا ہے
مزاج کے مطابق غذا، دوا، نیند، جذبات، زندگی اہمیت رکھتے ہیں
مزاج سے لاعلمی بیماریوں کا راستہ ہے، علمِ مزاج حکمت کا دروازہ ہے
ہر غذا کا خاص مزاج ہوتا ہے جو ارکان، ذائقے، اثر اور تجربے سے پہچانا جاتا ہے
مزاج کی پہچان علاج اور پرہیز کا بنیادی ذریعہ ہے
غلط غذا، غلط مزاج کو مزید بگاڑتی ہے
غذا، دوا بھی ہے — مگر صحیح انتخاب کے ساتھ!
مزاج کی 4 بڑی اقسام: گرم تر، گرم خشک، سرد تر، سرد خشک
ہر شخص، دوا، غذا، موسم کا مزاج ہوتا ہے
علاج کا اصول: بالمخالف مزاج
مزاج شناسی ہر حکیم کا بنیادی علم ہے
مزاج ایک کیفی اثر ہے جو عناصر کی ترتیب سے بنتا ہے۔
خلط ایک مادی مادہ ہے جو غذا سے جگر میں بنتا ہے۔
دونوں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، لیکن ایک جیسے نہیں۔
حکیم اگر ان دونوں کا فرق اور ربط سمجھ لے تو تشخیص اور علاج میں کامیاب ہو جاتا ہے۔
مزاج طب یونانی کا بنیادی جزوہے۔ ہر دوا، غذا، موسم، مرض اور فرد کا مزاج ہوتا ہے۔
یہی مزاج ہمیں بتاتا ہے کہ کس فرد کے لیے کیا مفید ہے اور کیا مضر۔
طب کا اصل ہنر مزاج کو پہچان کر اس کے مطابق علاج کرنا ہے — یہی حکمت ہے۔