عتدالِ مزاج طب یونانی کی بنیاد ہے
اس کا مطلب: مزاج کا توازن جسم، دماغ اور روح میں قائم ہو
اعتدال غذا، نیند، جذبات، موسم، اور ورزش سے برقرار رہتا ہے
صحت کی حفاظت اور علاج میں یہی سب سے پہلا ہدف ہوتا ہے
مزاج بدلنے کے عوامل میں عمر، موسم، غذا، جذبات، دوا، نیند اور ماحول شامل ہیں
مزاج کی تبدیلی وقتی یا مستقل ہو سکتی ہے
مزاج میں بگاڑ آئے تو علامات اور بیماریاں ظاہر ہوتی ہیں
علاج میں ان عوامل کو مدنظر رکھنا لازمی ہے
مزاج ایک کیفی اثر ہے جو عناصر کی ترتیب سے بنتا ہے۔
خلط ایک مادی مادہ ہے جو غذا سے جگر میں بنتا ہے۔
دونوں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، لیکن ایک جیسے نہیں۔
حکیم اگر ان دونوں کا فرق اور ربط سمجھ لے تو تشخیص اور علاج میں کامیاب ہو جاتا ہے۔
اخلاط اربعہ طب یونانی کا بنیادی ستون ہیں۔ ان کی تفہیم کے بغیر نہ مزاج سمجھ آ سکتا ہے، نہ دوا کا اثر، نہ غذا کی تاثیر اور نہ بیماری کا علاج۔
ایک کامیاب حکیم وہی ہے جو اخلاط کی توازن کو پہچانے، اور انہیں درست رکھ کر علاج کرے۔
مزاج طب یونانی کا بنیادی جزوہے۔ ہر دوا، غذا، موسم، مرض اور فرد کا مزاج ہوتا ہے۔
یہی مزاج ہمیں بتاتا ہے کہ کس فرد کے لیے کیا مفید ہے اور کیا مضر۔
طب کا اصل ہنر مزاج کو پہچان کر اس کے مطابق علاج کرنا ہے — یہی حکمت ہے۔