خلطِ بلغم: افادیت، خواص، بگاڑ سے پیدا ہونے والے امراض

بلغم ایک سفید، گاڑھا اور ٹھنڈا خلط ہے ۔
وہ کیموس جو جگر میں کچا رہ جاتا ہے اسے بلغم کہتے ہیں۔ اس کو کچا خون یا کچا صفراء بھی کہتے ہیں

نوٹ: یہ تمام معلومات تحقیق، مطالعہ، اور تجربات کی بنیاد پر صرف عمومی آگاہی اور رہنمائی کے لیے فراہم کی گئی ہیں۔ یہ کسی بھی قسم کی حتمی طبی تشخیص یا علاج کا متبادل نہیں ہیں۔
اپنی صحت یا علاج سے متعلق کسی بھی قسم کا فیصلہ کرنے سے قبل، کسی مستند معالج یا ماہر طبیب سے ضرور مشورہ کریں۔
ویب سائٹ پر دی گئی معلومات پر عمل کرنے کی مکمل ذمہ داری صارف کی اپنی ہوگی۔ اس ویب سائٹ یا اس کے منتظمین کسی بھی قسم کے طبی، جسمانی یا ذہنی نتائج کے ذمہ دار نہیں ہوں گے۔

بلغم ایک سفید، گاڑھا اور ٹھنڈا خلط ہے ۔

وہ کیموس جو جگر میں کچا رہ جاتا ہے اسے بلغم کہتے ہیں۔ اس کو کچا خون  یا کچا صفراء بھی کہتے ہیں۔ خلط بلغم جسم میں خون کے بعد سب سے زیادہ پایا جاتا ہے۔ یہ وہ بلغم نہیں ہے جو ناک اور گلا سے نکلتی ہے۔ بلغم خون میں شامل ہو کر پورے بدن میں چلتی رہتی ہے اور کہیں بھی سٹور نہیں ہوتی اعصاب  اور جوائنٹ خون سے اپنی غذا (بلغم )لے لیتے ہیں اور اضافی بلغم خون میں چلتی رہتی ہے۔ یہ خون کا چھٹہ حصہ ہوتا ہے۔خون کے بعد بدن کی دوسری بڑی ضرورت ہے۔

 جسم کو نرمی، لچک اور تحفظ دیتا ہے۔ یہ خلط انسان کی سستی، کاہلی یا نرمی والے مزاج کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ بلغمی مزاج والے افراد زیادہ سست، نرم مزاج، نیند پسند اور ٹھنڈ مزاج ہوتے ہیں۔

بلغم کہاں پیدا ہوتا ہے؟

معدے میں خوراک کے ہضم اور سرد تر اجزاء کے اجتماع سے پیدا ہوتا ہے جتنی زیادہ ہم اعصابی یا بلغمی چیزیں یا سرد تر ، کھا ئیں گے اتنا زیادہ بلغم پیدا ہو گا، جتنی کم کھائیں گے اتنا ہی کم پیدا ہو گا ، دماغ بلغم نہیں بناتا بلکہ جگر بلغم بناتا ہے۔

جتنی زیادہ ہم اعصابی یا بلغمی چیزیں یا سرد تر ، کھا ئیں گے اتنا زیادہ بلغم پیدا ہو گا، جتنی کم کھائیں گے اتنا ہی کم پیدا ہو گا ، دماغ بلغم نہیں بناتا بلکہ جگر بلغم بناتا ہے
tib-e-nabwi-3
ابرار حسین خادم طب نبویﷺ

بلغم (Phlegm) کہاں ذخیرہ ہوتا ہے؟

 طبعی بلغم کہیں ذخیرہ نہیں ہوتی بلکہ یہ جسم میں چلتی رہتی ہے ۔

 غیر طبعی بلغم کا ذخیرہ جسم میں معدہ (Stomach)، پھیپھڑے (Lungs)، دماغ (Brain) اور جوڑوں (Joints) میں ہوتا ہے۔

  معدہ: بلغم کی بنیادی پیدائش یہاں ہوتی ہے، خاص طور پر جب سرد اور تر غذائیں لی جائیں۔

پھیپھڑے: یہاں بلغم زیادہ مقدار میں جمع ہو کر کھانسی، دمہ، اور بلغمی رطوبات پیدا کرتا ہے۔

دماغ: بلغم دماغی سکون، نیند اور بھاری پن کا باعث بنتا ہے۔ سردی میں نزلہ، زکام اسی وجہ سے ہوتا ہے۔

جوڑ (Joints): بلغم کی زیادتی یہاں درد، سوجن اور سختی کا باعث بنتی ہے۔

طبعی بلغم کے خواص (Normal/Healthy Phlegm)

ایسا بلغم جو خوراک کے صحیح ہضم، مزاج کے توازن، اور اعتدال کے مطابق پیدا ہو، جسم میں تری و نرمی مہیا کرے، جوڑوں کی حفاظت کرے اور دماغ و اعصاب کو مناسب تغذیہ دے۔

مزاج

سرد و تر (سردی اور نمی رکھتا ہے) ،جسم کو نرم اور مرطوب بناتا ہے۔

رنگ

سفید یا شفاف ، گاڑھا نہیں ہوتا، لیکن ضرورت سے زیادہ پتلا بھی نہیں

ذائقہ

پھیکا یا ہلکا سا میٹھا

قوام (Consistency):

نہ زیادہ گاڑھا، نہ زیادہ رقیق (درمیانی نوعیت)

افادیت و افعال

  • یہ دماغ اور اعصاب کی غذا ہے، جب یہ مجسم صورت اختیار کرتی ہے تو اس سے دماغ اور اعضاء بنتے ہیں بلغم کا تعلق پانی کے ساتھ ہے۔
  • بدن کو، دماغ کو رطوبات پہنچانا یا گریس دینا اس کا کام ہے۔ یہ چکنا ہٹ فراہم نہ کریں تو جسم حرکت نہ کرے۔
  • حرارت کی زیادتی کو ختم کرتی ہے۔ جب جسم کو ورزش یا کسی بھی وجہ سے حرارت ملتی ہے تو بلغم پک کر خون میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
  • مدافعتی نظام، زخم کا بھرنا اسی کی وجہ سے ہوتی ہے۔
  • آنکھوں، لعاب دہن  کے لئے ضروری ہے
  • معدے میں تیزاب کے لیول کو برقرار رکھتی ہے۔
  • یہ کچا خون ہے، جب معدے میں خوراک نہیں ہوتی تو خون کا نظام سست ہوتا ہے تو جب جسم کو خون کی ضرورت ہوتی ہے تو اضافی بلغم کو پکا کر خون  میں تبدیل ہو جاتی ہے۔اس کو نصف خون کہتے ہیں، اگرغیرطبعی یا جم جائے تو مرض ہے
  • جسم میں نرم ساختیں جیسے عضلات، جلد اور چربی فراہم کرتا ہے۔
  • اعصاب کو تحفظ دیتا ہے اور جسم میں نمی قائم رکھتا ہے۔
  • نیند اور سکون میں اضافہ کرتا ہے۔
  • سردی اور گرمی کے اثرات سے جسم کی حفاظت کرتا ہے۔
  • دماغ و اعصاب کو قوت دینا
  • بلغمی مواد کے ذریعے جسمانی افعال کو متوازن رکھنا

علامات صحت

  • نرم جلد، اعتدال والی نیند
  • متوازن مزاج، سکون، تحمل
  • نظامِ ہضم کی سستی لیکن درست کارکردگی
  • جسمانی طاقت میں نرمی اور تسلسل

غیر طبعی بلغم کے خواص (Abnormal/Impure Phlegm)

جسے فاسد یا بیمار کن بلغم بھی کہتے ہیں۔ ایسا بلغم جو ناقص ہضم، زیادہ سرد و تر خوراک، جسمانی سستی، اور فطری نظام کی خرابی سے پیدا ہو کر جسم میں امراض، سستی، نسیان، الرجی وغیرہ کا باعث بنے۔

بلغم کی زیادتی کیوں ہوتی ہے؟

  • ٹھنڈی اور تر غذا (دودھ، دہی، چاول، آئس کریم، تلی اشیاء)
  • نیند کی زیادتی
  • حرکت اور ورزش کی کمی
  • مسلسل بیٹھنا یا لیٹے رہنا
  • سرد موسم، یا مرطوب ماحول
  • جگر و معدہ کی کمزوری

بلغم کی کمی کیوں ہوتی ہے؟

مصالحہ دار، تیز، چٹ پٹے، ترش اور خشک چیزیں جیسے مرچ مصالحے، گوشت، سرکہ، چائے، کافی وغیرہ بلغم کو خشک کر دیتے ہیں۔

اگر کوئی مسلسل صفراوی یا سوداوی ادویات لے رہا ہو (مثلاً جوشاندے، تیز قہوے، گرم چیزیں) تو یہ بلغم کو کم کر سکتی ہیں۔

اگر غذا میں دودھ، دہی، شوربہ، سبزیاں، میوہ جات اور پانی کم ہو تو بلغم پیدا کرنے والے عناصر کم ہو جاتے ہیں۔

مسلسل ذہنی دباؤ اور ٹینشن اعصابی نظام پر اثر ڈال کر تر خلط کو خشک کر سکتا ہے۔

رنگ

سفید دودھیا، پیلا، سبزی مائل یا جھاگ دار ،بعض اوقات چپچپا، بدبو دار

مزاج

انتہائی سرد و تر ،جسمانی حرارت کو کمزور کر دیتا ہے

ذائقہ

کڑوا یا نمکین

قوام (Consistency):

بہت گاڑھا یا بہت پتلا، اکثر چپچپا ،گلے، ناک، یا سینے میں جمع ہو کر رکاوٹ پیدا کرتا ہے

علامات:

  • سردی لگنا، سستی،  کند ذہنی
  • نزلہ، زکام، دمہ، کھانسی، بلغم کا زیادہ اخراج
  • جوڑوں کا درد، معدہ کی سستی، قے، بدہضمی
  • نیند کی زیادتی، بھاری پن، کمزوری
  • حافظہ کی کمزوری، نسیان، وزن بڑھنا
  • بلغم و رعشہ
  • پیشاب کی زیادتی اور سفید ہونا
  • جسم کا پھولنا
  • حرکات کا سست ہونا
  • دل کا ڈوبنا
  • رطوبات کا کثرت سے اخراج
  • منہ کا زائقہ پھیکا ہونا
  • ناخن کا سفید ہونا
  • نیند کی کثرت
  • سب سے زیادہ امراض سردی  میں ہوتے ہیں کیونکہ سردی موت ہے جب بلغم سوداء کے ساتھ ملتا ہے۔ بلغم کی زیادتی سوداء میں تبدیل ہوجاتی ہے جب بلغمی مزاج کوبڑھاتے جائیں تو سوداوی مزاج قائم ہو جاتا ہے۔ کیونکہ سرد تر بلغم اور سرد خشک سوداء ہے

سر

بالوں کا قبل از وقت سیاہ ہونا،بالوں کا گرنا،بلغم کا کثرت سے آنا،بے ہوشی،پاگل پن،چکر آنا،سر درد،سکتہ،صداع بلغمی، سر درد،ضعف دماغ و اعصاب

فالج بائیں طرف،کیرا،لقوہ،مرگی،نسیان

آنکھیں

جسم میں ریاح اور خشکی،چہرا پچکا ہوا،چہرہ سیاہی مائل،چہرے پر دھبے،حرارت کی کمی،حرکات قلب کا تیز ہونا،دبلا پن،قبض کی زیادتی،کاربن کی زیادتی،دبلا پن

بخار

بخار جس میں پیشاب کی رنگت سفید ہو،دماغی بخار

عورتوں کے امراض

پستان کا بڑا ہونا؛پستان لٹک جانا؛دودھ کی زیادتی، اسقاط حمل،بانجھ پن،حیض رک جانا،رحم کا ڈھیلا پن،سفید لیکوریا،گونگے ، بہرے، بھینگے بچے پیدا ہونا

لڑکیاں ہی پیدا ہونا،ہسٹیریا

پھیپھڑے

پسلیوں کا درد،پھیپھڑوں کا درد،پھیپھڑوں کا ورم، پھیپھڑوں سے خون آنا،خون تھوکنا،خون کی الٹی،دمہ خشک،سانس کی تنگی بوجہ خشکی،سینے کی جکڑن،کھانسی خشک،نمونیا

جگر و طحال

استسقاء لحمی،جگر کا بڑھ جانا،جگر کا ضعف،خون کی کمی،طحال کا بڑھ جانا

جلد

برص ہر قسم کا،پھنسیاں سفید،چہرے کی رنگت سفید،چیچک،خسرہ،خنازیر

امراض مردانہ

خصیہ کی کمزوری،خصیہ میں درد،خصیوں کا لٹک جانا،منی کا پتلا ہونا،منی میں جراثیم کا کم ہونا یہ بلکل نہ ہونا،ہرنیا آنت اترنا، انتشار کی کمی

آتشک،جریان منی،عضو تناسل لمبا ہونا ،عضو تناسل موٹا ہونا، نامردی

گردہ مثانہ

زیابیطس ، ٹائیپ 1،ضعف گردہ،مثانہ کی کمزوری

معدہ آنت مقعد

اسہال،دست،بدہضمی عطاش،بھوک کی کمی،پاخانہ نکل جانا،پیٹ میں پانی پڑ جانا ،استسقاء لحمی،دست،سنگرھنی IBS،قے،کھانے کے فورا بعد پاخانہ کی حاجت،متلی حاملہ اور قے،مٹی کوئلہ کھانے کی خواہش،معدہ کا ٹھنڈا ہونا،معدہ کا درد،معدہ میں گڑ گڑ ہونا،ہیضہ،مقعد کا ڈھیلا ہوجانا

منہ اور گلا اور ناک

حلق کی سوجن،غذا کی نالی کا ڈھیلا ہونا،کن پیڑے ، گلسوئے،کوا گرنا،گردن میں بل پڑنا،منہ پک جانا،منہ سے گندی بدبو آنا،منہ سے پانی آنا زیادہ مقدار میں،منہ کا گلنا،منہ کے سفید چھالے،نگلنے میں مشکل، چھینکوں کی کثرت،زکام سردی سے،ناک سے پانی آنا،ناک کے کیڑے،ہونٹ بڑے ہونا

بند نزلہ،ناک کی خشکی،ناک میں چھالے،ناک میں سوزش،نکسیر آنا،ہونٹوں کا ورم،ہونٹوں سے خون رسنا،ہونٹوں کا پھٹنا،ہونٹوں کی خشکی

دانت

خنازیر گلہڑ،درد دانت،دانت کا ہلنا،دانتوں کا گرنا

دل

65 فی منٹ سے کم رفتار،بلڈ پریشر کم ہونا ،دل کا بڑھ جانا،دل کا ڈوبنا،دل کی حرکت کا بند ہونا،دل کی حرکت کم ہونا،ضعف قلب دل کا ڈوبنا

کان

بہرہ پن،کان سے پیپ،کان کا درد،کان کے کیڑے

جوڑ

اعصابی دردیں،جوڑوں کا درد،عرق النسا ، بائیں طرف کی ٹانگ میں درد

رطوبات

رطوبات کا کثرت سے اخراج